ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی ضلع مسلم اوکوٹا کی طرف سے خصوصی ملن۔ جی راج شیکھر اور اسماعیل تونسے کو دیا گیا ایوارڈ

اڈپی ضلع مسلم اوکوٹا کی طرف سے خصوصی ملن۔ جی راج شیکھر اور اسماعیل تونسے کو دیا گیا ایوارڈ

Sun, 10 Jan 2021 12:57:08    S.O. News Service

اڈپی،10؍جنوری (ایس او نیوز)اڈپی ضلع مسلم اوکوٹاکی جانب سے ایک خصوصی ملن کا پروگرام امباگل کے امرت گارڈن ہال میں منعقد کیاگیا۔ جس میں مشہور بزرگ دانشور جی راج شیکھر کو ’مانؤ رتن‘ اور سماجی خدمت گار اور صالحات تعلیمی ادارے کے صدر اسماعیل تونسے کو ’ سیوا رتن ‘ ایوارڈ تفویض کیا گیا۔  پروگرام کا افتتاح پدم شری ہریکلا حاجی ابّا نے کیا۔جبکہ صدارت کی ذمہ داری وارتا بھارتی کے چیف ایڈیٹر عبدالسلام پُتیگے نے سنبھالی۔ 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہمپی کنڑا یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر ایم چندرا پجاری نے ملکی سیاست میں  مجرمانہ کردار والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش  کا اظہار کیا اور کہا کہ  گزشتہ پارلیمانی انتخاب میں مجرمانہ کردار والے سیاست دانوں کی تعداد 43%ہوگئی ہے ۔ اگرپارلیمنٹ ، اسمبلیوں اور عام زندگی میں داغدار سیاست دانوں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو پھر امن پسند اور بے داغ کردار والے عوام کے لئے جیلوں میں بند ہونے  کے سو ا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔اس سے عدلیہ، مقننہ ، ایکزیکٹیو اور میڈیا جیسے جمہوریت کے ستون ڈھیر ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سماج کے مختلف طبقات میں آپسی رسہ کشی اور جھگڑے چلتے رہیں گے تو ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی۔اس وقت 70فیصد سے زیادہ  دلتوں ، مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے پاس آمدنی او ر اختیارات نہیں ہیں۔زندگی کی ایسی نچلی سطح پر جینے والوں کو اوپر اٹھانا ضروری ہے۔لیکن اس سے اعلیٰ سطح پر جینے والوں کے اندر خوف او رتشویش پیدا ہوتی ہے اور یہی طبقاتی اور سماجی دشمنی کاسبب بن جاتا ہے۔ 70فیصدی نچلے طبقات کو آپس میں لڑانا ہی اعلیٰ سطح پر رہنے والوں کا منصوبہ ہوتا ہے۔اس بات کو سمجھنا چاہیے، اور آپسی میل ملاپ اور تعاون کا راستہ اپنانا چاہیے۔اسی سے ملک کی ترقی ممکن ہے۔

ایوارڈ قبول کرتے ہوئے جی راج شیکھر نے کہا کہ اس علاقے کے مسلمان دن بدن ایک  ایسے طبقے میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں جن کی کوئی آواز یا ترجمان نہیں ہے۔ ملک کی معاشی اورعوامی زندگی میں مسلمانوں کی نمائندگی تشویش ناک حد تک کم ہوگئی ہے۔اور فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔لیکن آنے والے دنوں میں سیکیولر نظام سے ہی اس کا علاج ہوسکتا ہے۔

راج شیکھر اور اسماعیل تونسے کو جو ایوارڈ دیا گیا وہ فی کس25   ہزار روپے نقد اور توصیف نامے پر مشتمل تھا۔ دونوں ایوارڈیافتگان نے اپنے اپنے ایوارڈ کی رقم مسلم اوکوٹا کو ہی واپس عطیہ کردی۔اس پرمنتظمین نے فوری فیصلہ لیتے ہوئے 25ہزار روپے پدم شری حاجی ابّا  اور 25ہزار روپے آشا نیلیا نامی خصوصی تعلیمی ادارے کو دیدئے۔

اس موقع پر عیسائی پادری فادر ولیم مارٹس، بننجے بابو امین، ساھو سالیان،رئٹائرڈ بی ای او وٹھل داس بننجے، ضلع مسلم اوکوٹا کے اولین صدر حاجی عبداللہ پرکل، سماجی خدمتگار شیٹی امبلپاڈی، آشا نیلیا تعلیمی ادارے کی ہیڈمسٹریس ششی کلا بنجیمن  کوٹیان، عائشہ کارکلا، لکشمی بائی پجاری وغیرہ کی بھی تہنیت کی گئی۔

مہمانان خصوصی کے طور پر سابق وزیر ونئے  کمار سورکے، پرمود مادھو راج، سابق ضلع پنچایت صدر راجو پجاری بیندور، سہبالوے کے صدر امرت شینئی، لیلا دھر شیٹی نے اجلاس سے خطاب کیا۔اوکوٹا کے ضلع صدر یاسین ملپے  نے کلیدی  خطاب کیا۔جنرل سیکریٹری ،محمد مولا نے استقبال کیا۔ خزانچی اقبال کٹپاڈی نے شکریہ اداکیا۔ میڈیا سیکریٹری  صلاح الدین عبداللہ نے توصیف اورانور علی کاپو نے سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔ عبدالرزاق اننت واڈی نے پروگرام کی نظامت کی۔

اس موقع پر مسلم اوکوٹا کے سابق صدر  حاجی عبداللہ ناوندا، قاسم بارکور ، ایم پی موئنبّا  ، اشفاق احمد کارکلا اور دیگر معززین موجود تھے۔


Share: